• Trending

    مقصودِ ماہِ رمضان


    ماہِ رمضان المبارک کا نام سنتے ہی ایک عام فہم مسلمان کا خیال سیدھا روزے کی طرف ہی جاتا ہے اور یہ لازمی بھی ہے کیونکہ ماہِ رمضان کا اثر اور ماحول ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس مہینہ میں ہر مسلمان خواہ وہ نیکوکار ہو یا گناہگار، عوام ہو یا خواص، امیر ہو یا غریب ہر کسی کو واقعی یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے. روزہ ارکانِ اسلام میں سے تیسرا بنیادی رکن ہے جس کی پابندی شہادتِ توحید و رسالت اور نماز کے بعد فرض کا درجہ رکھتی ہے. قرآن الحکیم میں اللہ سبحان تعالیٰ نے روزے کے متعلق ارشاد فرمایا:


    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ.

    ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے اگلوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی/پرہیزگار بن جاؤ. (البقرہ، 2:183)

    اس آیت کریمہ میں دو اہم نکات بیان کئے گئے ہیں. پہلا یہ کہ روزے صرف امت مسلمہ پر ہی فرض نہیں کئے گئے بلکہ اور بھی امتوں پر فرض کئے گئے تھے اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ روزے کا مقصود فقط بھوکا پیاسا رہنا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنا ہے. موجودہ دور میں ہماری اکثریت روزے کی حقیقت سے ناآشنا ہے اور بغیر اس پر غور و فکر کئے ایک رسمی طور پر ہم لوگ روزے رکھتے چلے آ رہے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اگر ایک شخص پچھلے 30 سال سے لگاتار ماہِ رمضان کے پورے 30 روزے رکھتا آ رہا ہے تب بھی اس میں کوئی تبدیلی دکھنے کو نہیں ملتی، وہ جس بُرائ میں 30 سال قبل مبتلا تھا آج بھی اسی میں مبتلا ہے، اسکا کردار جیسا 30 سال پہلے تھا آج بھی ویسا ہی ہے، اس میں تقویٰ و پرہیزگاری کا نام و نشان بھی نہیں! لہٰذا اس مختصر مضمون میں ہم روزے اس پہلو پر روشنی ڈالیں گے.

    اسلامی تعلیمات میں اگر ایک طرف ماہِ رمضان کے روزوں کی یا نفلی روزوں کی بےشمار فضیلت بیان کی گئی ہے مثلاً:-  حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا: "جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا اسکے پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں."(صحیح البخاری، کتاب الایمان، رقم 38)
    آپ (ﷺ) نے فرمایا: "جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو."(سنن النسائ، کتاب الصیام، رقم 2208)

    وہیں دوسری طرف بعض ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محض بھوکا پیاسا رہنے سے ہی روزہ کامل نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عبارت مقبول تب ہے جب انسان کو اسکا مقصود حاصل ہو جائے یعنی کہ انسان اس کے ذریعے متقی و پرہیزگار بن جائے. مثلاً:-
    حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا: "بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام/عبادت کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا."(سنن ابن ماجہ، رقم 1690)
    آپ (ﷺ) نے فرمایا: "روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی روزے سے ہو تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ ہی نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں." (سنن ابی داؤد، رقم 2363)

    ان احادیث کا مفہوم یہ ہوا کہ روزہ محض دن بھر بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جس کے باعث ہمارے کردار میں تقویٰ و پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے.

    تقویٰ انسان کو حرام چیزوں سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے لیکن روزے سے حاصل ہونے والا تقویٰ ایک بالکل مختلف اور منفرد نوعیت کا تقویٰ ہے جو ہمیں حرام چیزوں سے تو درکنار ان حلال و طیب چیزوں کے نزدیک بھی بحالتِ روزہ بھٹکنے نہیں دیتا جو عام زندگی میں بالکل جائز ہیں. دراصل رمضان کے یہ 30 روزے ہمارے لئے ایک تربیتی کورس کی طرح ہیں جس کو ہر سال اس لئے دوہرایا جاتا ہے تاکہ اس ایک مہینے کا اثر بندے پر اس طرح پڑے کہ باقی کے گیارہ مہینوں میں بھی بندہ حلال و حرام کا امتیاز رکھے اور حکم خداوندی کا خیال برقرار رکھے. لیکن افسوس کہ ہم میں سے اکثر و بیشتر روزے کے ثمرات سے محض اس لئے محروم رہتے ہیں کہ ہمارا شعار روزے کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا بن گیا ہے.

    ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو بڑے جذبے سے سحری کے وقت اٹھ کر کھانا کھا کر روزے کی نیت کر کے نماز ادا کر کے خوشی سے روزہ رکھتے ہیں لیکن پھر دن بھر اس روزے کا احترام کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور بےشمار ایسے اعمال کرتے ہیں جو اس روزے کو روزہ نہیں رہنے دیتے اور محض فاقے میں تبدیل کر دیتے ہیں. مثلاً اگر ایک شخص بوقتِ سحری اچھی طرح نیت کر کے روزہ رکھ لیتا ہے اور پھر دن بھر جھوٹ بولتا ہے، غیبت کرتا ہے، بغض و حسد کرتا ہے، جھگڑے فساد کا سبب بنتا ہے، نفرت پھیلاتا ہے، اپنی زبان سے گالیاں نکالتا ہے، دوسرے کا حق مارتا ہے، اپنے پڑوسی کو تکلیف دیتا ہے، بڑوں کا ادب نہیں کرتا، چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا، تجارت میں خریدار کو دھوکہ دیتا ہے، سرکاری دفتر میں رشوت لیتا ہے، سکول میں بحیثیت استاد اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا، منبر رسول (ﷺ) کا غلط استعمال کرتے ہوئے دین کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے، دین کا دھندہ کرتا ہے، نیاز کے نام پر غریب مسکین مریدوں کی چمڑی اتارتا ہے، حکومت و سیاست کے نام پر عوام کو دھوکہ دیتا ہے اور پھر مغرب کے وقت دسترخوان پر بڑی خوشی سے افطار بھی کرتا ہے. تو جان لیں کہ وہ شخص دن بھر روزے سے نہیں تھا بلکہ محض فاقے سے تھا، بھوکا پیاسا تھا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا روزہ مقبول نہ ہوا کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

     "جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور فریب کرنا اور جہالت کی باتیں کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑے۔" (صحيح البخاری، رقم 6057)

    لہٰذا ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ محض خود کو کھانے پینے سے روک لینا ہی روزے کا مقصد نہیں ہے بلکہ روزے کا اصل مقصد تہذیبِ نفس، تزکیہ نفس اور تربیتِ اخلاق ہے. اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے آپ کو عملاً و نیتاً حرام سے، بےحیائی سے، بدکاری سے، فحش گوئ سے اور بدکلامی سے روکیں گے تاکہ ہمارا کردار سنور سکے، ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو اور ہم بالآخر پرہیزگار بن 
    سکیں جو کہ روزے کا اصل مقصد ہے!

    Habib Bilal is an MBA and an M.A in Islamic Studies. He belongs to the Surankote tehsil of district Poonch. He can be reached at habib.sayedbilal@gmail.com

    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad