غزل | محتشم

 وہ جو آنکھوں کوسدااشکوں میں تر رکھتے ہیں 

کیا میری طرح کوئی درد جگر رکھتے ہیں 


پہلے روتے تھے نہ تھا کوئی ٹھکانہ اپنا 

اب تواس بات کارونا ہے کہ گھر رکھتے ہیں


ہم کو معلوم ہے معلوم ہمیں کچھ بھی نہیں 

بے خبر رہ کے بھی ہم سب کی خبر رکھتے ہیں 


پوچھئے مت کہ  مقدر ہے ہمارا کیسا 

وہ زمیں ہٹتی ہے ہم پائوں جدہر رکھتے ہیں 


ان کے آجانے کا امکان تو ناممکن ہے

ان کے آ جانے کی امید مگر رکھتے ہیں


میرے اشعار پڑے غیر نے اپنے کہہ کر 

یہ سکوں دل کو ملا اچھا اثر رکھتے ہیں


منزلوں سامنے آنے سے ذرا کتراؤ 

ہم تو پیروں تلے صدیوں کا سفر رکھتے ہیں 

 

دل پہ ہر وقت پڑا رہتا ہے سایہ کوئی 

گھر میں آنگن ہے تو آنگن میں شجر رکھتے ہیں  


ایک دریا ہے کہ دریا پہ ہے پہرا اپنا 

ایک نیزہ ہے کہ جس نیزےپہ سر رکھتے ہیں


محتشم آپ ہیں وابستہ انہیں سے جو کہ

در پہ تاروں کو بلانے کا ہنر رکھتے ہیں






نام احتشام حسین اور تخلص محتشم یے۔ یکم جون ١٩٧١ کو جموں کشمیر کےضلع پونچھ کے قصبہ منڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول منڈی سے، گورنمنٹ مڈل اسکول منڈی سے آٹھویں پاس کی اور منڈی سے ہی ہائر سکنڈری پاس کر کے کمپیوٹر میں ڈیپلوما حاصل کیا اور ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرنے لگے، کچھ عرصہ ایک نجی اسکول میں بھی پڑھایا پھر ایک مدرسہ میں کمپوٹر پڑھانے لگے اور وہی سے شاعری بھی شروع کر دی۔ 2007میں محکمہ دیہی ترقیات میں عارضی ملازم تعینات ہوئے ساتھ ساتھ صحافت بھی شروع کی

Pir Panjal Post is a blogging outlet which aims at educating people and creating awareness on the issues concerning human society like Education, Politics, Economics, Science, art and literature. The main focus of this blog is on encouraging the budding writers, poets, painters, calligraphers, photographers etc. Besides, it intends to serve the vernacular languages.

Disqus Comments