• Trending

    نماز عیدین پر لوگوں کی بندر بانٹ | میاں محمد ارشد چوہان


            عیدین و جمعہ کی نمازوں کی نوعیت عام نمازوں سے الگ ہے - زیادہ سے زیادہ لوگ نماز کی غرض سے اکٹھے ہوں ایک دوسرے سے ملیں، خوشیاں بانٹیں اور  دوسروں کو اتحاد مسلم کا ایک پیغام جائے یہ ان نمازوں کی وہ منفرد پہچان ہے جو دوسری نمازوں کو میسر نہیں ہے - ان نمازوں کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ ایک جگہ اکٹھے ہونا ہوتا ہے - لیکن ہمارے ہاں پیر پنجال علاقے میں اس کا فقدان نظر آرہا ہے - مسلمان اکثریت ہونے کی وجہ سے لگ بھگ ہر محلے میں مسجد ہے اور بد قسمتی سے لوگ ہر مسجد کو جامع مسجد یا عید گاہ ڈکلیر کر چکے ہیں -کہنے کا مطلب کہ جہاں پر محلے کے بھی سارے لوگ جمع نہیں ہیں وہ عید گاہ بنی ہوئی ہیں - جہاں دس لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں وہ عیدگاہ کہلائی جا رہی ہے  سو اسطرح  علاقے کے ہر ایک گاؤں میں کم سے کم 5-10 ایسے مقامات پائے جاتے ہیں جنکو عید گاہ کہا جاتا ہے - ان میں سے بہت کم جگہیں ایسی ہیں جہاں مشکل سے 50-100 لوگ  بھی اکٹھے ہوتے ہوں - اوسطاً ہر جگہ لوگوں کی تعداد 20-30 رہتی ہے - اب یہ مسئلہ دن بدن اور بھی زیادہ بھیانک ہوتا جا رہا ہے  یہ چیز اب قبائلی و فرقہ وارانہ نظام میں تبدیل ہو رہی ہے مثلاً ایک محلے میں اگر کسی ایک فرقے یا ذات والے لوگ رہتے ہیں تو دوسرے میں دوسرے اس صورت میں ایک دوسرے کے مقابلے  میں دونوں قریبی محلے اپنی اپنی مسجدوں میں دس - پندرہ لوگ اکٹھے کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں ان کی مسجد میں نہیں جائیں گے ہم اپنا مرکز قائم کر لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ -
                             جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گاؤں کے ہر محلے میں دس پندرہ لوگوں کے اکٹھا ہونے سے کوئی جگہ عید گاہ نہیں بن جاتی بلکہ ایسا کر کے اسلام اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہےگذشتہ سال میں نے اس ضمن میں علمائے پیر پنجال کو ایک کھلا خط بھی لکھا تھا کہ چونکہ  ان لوگوں سے پوچھو کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو انکا بے ساختہ جواب ہوتا ہے  ہم فلاں مفتی صاحب سے اجازت لے کر آئے ہیں کہ یہاں پر عید پڑھی جائے - 
    خط میں میں نے موقف اپنایا تھا محلے محلے کے بجائے ہر گاؤں میں ایک دو ایسی جگہیں مختص کر لی جائیں جہاں پر کم سے کم تین چار سو لوگ اکٹھے ہو سکیں بجاے اسکے کہ محلے محلے میں ایک تماشا لگایا جائے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑے - اس خط کی کافی سراہنا بھی ہوئی تھی - کچھ علماء حضرات نے سوشل میڈیا پر اسکا جواب بھی دیا تھا جبکہ بعض نے چپ رہنے میں ہی دنیا و آخرت کی عافیت سمجھی - اب میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہ بات علماء سے بھی آگے نکل چکی ہے مثلاً ایک محلے کے آس پاس کے تین محلوں میں لوگ اگر ایسا کر رہے ہیں تو وہ خود ہی اپنے میں ایسی من گھڑت عید گاہ قائم کر رہے ہیں - وہ جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھو جی جب ہمارے پڑوس کے تین محلوں میں  لوگ ایسا کر رہے ہیں تو ہمیں کیا اور کون پوچھ سکتا ہے - آخر میں اہلیانِ پیر پنجال سے مختصراً التماس ہے کہ کم از کم عیدین کی نمازوں پر زیادہ سے زیادہ ایک جگہ اکٹھا ہو جایا کریں یہی ہمارے مفاد میں بھی ہے، عبادت میں بھی ایک سکون آئے گا، ایکدوسرے سے میل ملاپ بھی ہوگا وغیرہ وغیرہ - ان تہواروں پر مسلمانوں کو گلی گوچوں میں بانٹنے والے عناصر کی ہر صورت حوصلہ شکنی کریں -

    آپ سب کو عیدالفطر کی ڈھیر ساری شب کامنائیں  - 
                                   والسلام

    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad