• Trending

    انصاف تو کرو | ڈاکٹر امجد علی بابر

    ڈاکٹر امجد علی بابر

    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔

    تاریخ شاہد عادل ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد سے اردو کے ساتھ جان بوجھ کر اچھا سوک نہیں کیا گیا۔ ہندوستاں کی آزادی کے بعد جب سرکاری زبان کا مسئلہ سامنے آیا تو اردو صرف ایک ووٹ سے ہندوستان جیسے عظیم ملک کی سرکاری زبان نہ بن سکی۔ اگر چہ اردو کا یہ المیہ بھی سیاسی نوعیت کا تھا، تاہم ہندوستان میں اردو  کو دوسرا مقام تو مل ہی گیا تھا۔ اکا دکا ریاستوں میں بھی اسے دوسرے نمبر کی  سرکاری زبان کا درجہ  بھی ملا۔  ریاست جموں و کشمیر نے  اردو کو اپنی سرکاری زبان  کے طور پر منتخب کیا لیکن افسوس کہ جتنا برا سلوک اردو کے ساتھ ہماری ریاست میں ہوا  یا آج بھی ہورہا ہے اس کی مثال کسی بھی دوسری ریا ست میں نہیں ملتی۔ ہندوستان کئی ریاستوں میں اردو اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور ان اداروں نے اردو زبان کی کم و بیش خدمت بھی کی۔ لیکن جموں و کشمیر میں اردو کے نام پر ایک عرصے سے سیاست ہو رہی ہے۔

    سول سیکرٹریئٹ
     اردو کے حق میں بولنا محض سرخیوں  میں آنے تک ہی محدو رہ گیا ہے۔ کچھ غیر سرکای ادارون اور انجمنوں نے  اردو کی فلاح اور بقا کے لئے کام کیا لیکن یہ کام ذاتی شہرت  اور نجی  مفاد کے پیشِ نظر  کیا گیا یا پھر  اردو جیسی اہم ترین زبان کے لئے ناکافی تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں محکمہ پولیس اور محکمہ مال میں دفتری کام  کاج کچھ حد تک  اردو زبان میں ہوتا ہے۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں  جلد ہی انگریزی زبان  یہ حق بھی چھین لے گی۔ ریاست جموں و کشمیر  کے مقابلے   میں  اگر ہم دوسری ریاستوں کا جائزہ لیں تو وہاں سرکاری زبان کو اعلی مقام حاصل ہے۔

    وہ مقام اردو کو کیا جموں و کشمیر میں ملے گا ۔ نہیں ۔ بالکل نہیں ۔ پنجاب میں پنجابی کو جو مقام حاصل ہے اس کا سہرا وہاں کے ان سیاسی رہنماوں کے سر بندھتا ہے  جن کو اپنی مادری زبان سے محبت ہے۔ عہدِ حاضر میں پنجاب میں  پنجابی تمام اسکولوں میں  ایک لازمی  مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ ہر دفتر کے باہر ہر تختے پر  پنجابی میں دفتو کا نام تحریر کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح مہاراشٹر میں مراٹھی،  تامل ناڈو میں تامل،  گجرات میں گجراتی،   یا بنگال میں بنگالی وغیرہ کو جو مقام حاصل ہے اور جس طرح  ان زبانوں کے تحفط کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں  وہ قابلِ تعریف  ہیں۔ باقی ہندوستان کی سب ہی ریاستوں میں سرکاری زبان کو اولیت حاصل ہے۔ چونکہ ہندوستان کی سرکاری زبان ہندی ہے اس لئے مرکزی نوکریوں کو پر کرتے وقت ہندی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ ملک میں سب سے اعلٰی امتحان سول سروس کا ہوتا ہے وہاں پر بھی طلبہ ہندی اور انگریزی دونوں میں جوابات لکھ سکتے ہیں۔  یو۔ جی۔ سی کی طرف سے منعقد ہونے والے نیٹ میں بھی ہندی اور انگریزی دونوں   زبانوں میں  امتحان منعقد کرائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ماری ریاست میں اردو کے ساتھ ہر مقام پر  کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔ افسوس کہ اردو نے ہندوستان کی تاریخِ  آزادی میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔

    اردو شعرا نے اپنوں اور غیروں کو بیدار کر کے  انگریز کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس کے باوجود  بھی اردو زبان کو وہ مقام نہ مل سکا جس کی یہ حقدار ہے۔  چاہے فلم انڈسٹری ہو   ، فلمی گیت ہوں ، ٹی ۔وی سیرئیلز ، ہر جگہ اردو سے کام لیا گیا مگر ساتھ ہی  اس کے تئیں وہ ظالمانہ سلوک  کیا گیا جس کی مثال دنیا کی کسی اور زبان سے نہیں ملتی۔ اردو کسی مخصوص قوم یا خاص علاقے کی زبان نہیں ہے۔ اس انمول سرمائے کا تقاضہ ہے کہ ہمیں اس عوامی زبان کی آبیاری کرنی چاہئے۔ یہی زبان ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے نہ کہ توڑنے کا کام کرتی ہے۔ 

    مصنف: ڈاکٹر امجد علی بابر گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ کے شعبئہ اردو میں اسِسٹینٹ پروفیسر کے عہدے پر فائیز ہیں 


    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad