استفسار | مجاہد مغل


کوئی کیوں کر اٹھا لے چھابا خونچا زندگی کا

یک بیک، اور کوچ کرلے

آگ کی لپٹوں میں اپنے گھر کو جلتا چھوڑ کر۔

وہ بچے جو کسی گوشے میں گھر کے

موت کے ڈر سے

چھپے ہوں گے

انہیں میں کیسے ڈھونڈوں

کیا کہوں ان سے؟

کہاں پر زندگی ہے؟

کہ زنداں میں تو ہر سو،

اثدہا کوئی نہ کوئی ہے۔

انہیں میں ڈھونڈ لوں اور

باندھ لوں اپنی کمر سے

اورپھر دوڑوں وہاں تک

جہاں پر زندگی ہو

مگر ، یہ بھی کہاں ممکن

یہاں تو چار سو ہی آتش نمرود دہکی ہے

فضا میں، پانیوں میں، اور خشکی میں۔

میں جاوں تو کہاں جاوں؟ 

اگرچہ برق کی رفتار سے بھی تیز بھاگوں تو

میں پھر بھی چھوڑ آوں گی وہیں پر

وہ سب کچھ جوبہت ہی قیمتی ہے

 بہت انمول ہےجو

مرے ماضی کی یادیں

صبح فردا کی امیدیں

مرے سارے رشتے ناتے اور ہمساے

جنہیں کھو کر کبھی پانا نہیں ممکن۔

چلو مانا، یہ ممکن ہے

مگر کچھ ہی پلوں میں 

کیسے ممکن ہے

کوئی کیسے اٹھا لے چھابا خونچا زندگی کا

یک بیک

اور کوچ کر لے۔

 شاعر: ڈاکٹر مجاہد مغل گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ کے شعبہء جغرافیہ میں بطور ِ اسسٹنٹ پروفیسر درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

Pir Panjal Post is a blogging outlet which aims at educating people and creating awareness on the issues concerning human society like Education, Politics, Economics, Science, art and literature. The main focus of this blog is on encouraging the budding writers, poets, painters, calligraphers, photographers etc. Besides, it intends to serve the vernacular languages.

Disqus Comments