غزل | ڈاکٹر امجد علی بابر

وہ کچھ کچھ مہرباں سا لگ رہا ہے 

قفس بھی آشیاں سا لگ رہا ہے

 

یہ کوئی خواب ہے یا وہم کوئی

وہ مجھ کو بد گماں سا لگ رہا ہے

 

لگا کے کان میں سنتا ہوں اس کو 

مجھے تو وہ اذاں سا لگ رہا ہے

 

یہ کیسے لوگ سوئے ہیں زمیں پر 

یہ کیسا شور سا یاں لگ رہا ہے

 

جلا کر آگ ہم آئے جہاں پر 

وہاں پر اب دھواں سا لگ رہا ہے

 

افق ہے اور نہ سورج چاند تارا

وہ پھر کیوں آسماں سا لگ رہا 

 


ڈاکٹر امجد علی بابر گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ کے شعبہ اردو میں بطوراسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہیں۔

Pir Panjal Post is a blogging outlet which aims at educating people and creating awareness on the issues concerning human society like Education, Politics, Economics, Science, art and literature. The main focus of this blog is on encouraging the budding writers, poets, painters, calligraphers, photographers etc. Besides, it intends to serve the vernacular languages.

Disqus Comments