• Trending

    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور خطہ پیر پنجال | الطاف حسین جنجوعہ

    برصغیر ہندکے نامور عالم، دانشور، مصنف، رہبر اور مفکرقوم سرسید احمد خان کودوسوسالہ یوم ِ پیدائش پر یاد کیاجارہاہے۔ اس سلسلہ میں دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کی طرف سے شاندار تقاریب کا اہتمام کیاگیا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس عظیم شخص کی طرف سے قائم کردہ ادارہ جسے  آج ’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘کے نام سے جاناجاتاہے، میں جانے کا موقع ملا اور وہاں سے 
    تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ 
    مولانا آزاد لائبریری
    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نہ صرف ایک تعلیمی دانشگاہ ہے بلکہ انسان کی ذہنی وقلبی اور روحانی تسکین وتشفی کا مرکز ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کی ہرچیز کی اپنی ہی مہک ہے۔ ہرچیز سے اخلاقیات، انسانیت، ملنساری، عاجزی، انکساری جھلکتی ہے۔ میراشمار ان بدنصیبوں میں ہے جنہوں نے نہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور نہ ہی وہاں جانے کا موقع ملا، پر اس علمی مرکز کے دیدار سے  فیضیا ب ہونے اور یہاں سے علم کی پیاس بجھا چکی شخصیات سے ملاقات، محوِ گفتگوہونے اور ان سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ، جن کی علمی بصیرت، اخلاقی اقدار، ملنساری اور نرم مزاجی نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیاکہ اگر ان کی یہ شان ہے تو اس لوگوں کی کیاشان ہوگی جنہیں براہ راست سرسید احمد خان سے علم حاصل کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کا موقع ملاہوگا۔

     چونکہ میرا موضوع ”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورخطہ پیر پنجال “ہے، اس لئے میں اپنے آپ کو زیادہ لمبی فلسفیانہ باتیں نہ کرتے ہوئے خود کو موضوع کے دائرہ تک ہی محدود رکھتا ہوں ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ریاست جموں وکشمیر کے سرحدی اضلاع پونچھ وراجوری جنہیں عرف عامہ میں’خطہ پیر پنجال‘کے نام سے جاناجاتاہے، پر اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے مرحوم سرسید احمد خان کی روح کافی مہربان رہی ہے۔ 1947میں تقسیمِ برصغیر ہند سے پہلے اور خاص کر اس کے بعد سے ہی اس خطہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے علم کی پیاس بجھانے کے لئے علی گڑھ میں قائم اس ادارہ کا رُخ کیا جس کو سرسید احمد خان نے اپنے خون سے سینچا ہے۔ ان اشخاص نے سیاسی، انتظامی، تعلیمی اور سماج کے دیگر شعبوں میں اپنی گہری چھاپ چھوڑی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا احسان ہے کہ اس نے راجوری وپونچھ کو ایسے پھول دیئے جن کی خوشبوسے ہر علاقہ، گاوں مہک رہا ہے۔ کسی ایک یا چندایسی شخصیات کا نام لوں تو یہ نا انصافی ہوگی کیونکہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہر شخص اپنے آپ میں ایک ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی ہمہ جہت شخصیت سب کو متاثر کرتی ہے۔ آج ہم عصر حاضر میں راجوری پونچھ اضلاع پر نظر دوڑائیں تو یہاں سیاست،وکالت، عدلیہ ،تعلیم، انتظامیہ میں نمایاں نام انہیں لوگوں کے ہیں جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔علی گڑھ کے طالب ِعلم دور سے ہی نظر آتے ہیں، ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہوتابلکہ وہ عام ہوکر بھی خاص ہوتے ہیں۔ ان کا بات کرنے کا انداز، کسی بھی معاملہ پر رد عمل یا رائے زنی کرنے کا طریقہ ، عاجزی انکساری، اخلاقی اقدار اس قدر کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں کہ جی کرتا ہے کہ ان سے ہمیشہ کسی نہ کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہی رہیں۔

     میری خوش نصیبی رہی کے دورانِ کالج مجھے علی گڑھ سے وابستہ اساتذہ سے پڑھنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا، وہ چاہئے پروفیسر شبیر حسین شاہ صاحب ہوں یا پھرڈاکٹر جمیل احمد خان صاحب  ہوں یادیگر شخصیات، سبھی اپنے آپ میں منفرد ہیں۔ پروفیسر شبیر حسین شاہ صاحب سے جغرافیہ پڑھنے کا موقع ملا، ان کابات کو سمجھانے کا طرزِ بیان اس قدر منفرد ومتاثر کن تھاکہ ان کی ہربات دل کو چھو جاتی تھی۔علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو ایک اور خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ چاہےکسی بھی مذہب، مسلک، ذات، طبقہ یا علاقہ سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں، وہ بھی مذہب، مسلک، ذات پات کے دائرہ کے اندر محدود نہیں ہوتے۔ ان کانظریہ، سوچ، فکروتدبر وسیع ہوتی ہے۔کسی بھی بات یا معاملہ پر ان کا تبصرہ، رائے زنی تمام تر پہلووں کو مدنظر رکھ کر ہوتی ہے۔بغض ، کینہ، تعصب، امتیاز ،حسد، مایوسی، احساسِ کمتری جیسی برائیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔بھلے ہی مجھے کئی وجوہات کی بنا پر علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن اس بات کو سوچ کر اطمینان ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہی گاوں سے تعلق رکھنے والا ایک عزیز میرے پاس گریجویشن کرنے کے بعد آیا، اس نے مجھ سے پوچھا کہ آگے پی جی کرنی ہے، کہاں سے کروں تو میں نے اس کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جانے کا مشورہ دیا جس پر عمل کرتے ہوئے ، اس نے وہاں سے تعلیم حاصل کی ، آج ماشا اللہ میں اس کو اپنے گاوں کے لئے قابل فخرسمجھتا ہوں ۔

    یہ سوچ کر دل کو سکون ملتا ہے کہ سرسید احمد خان کی طرف سے علی گڑھ میں لگائے گئے چمن کا ایک پھول ہمارے گاوں میں بھی ہے۔راجوری پونچھ سے تعلق رکھنے والی ان تمام شخصیات جنہیں علی گڑھ سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا اور آج وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں، سے گذارش ہوگی کہ وہ جس جس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، 
     جوسب سے سنیئر ہو، اس کی قیادت میں ہر گاوں میں  ایک کمیٹی کی تشکیل کریں جس کا مدعا ومقصد گاوں کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے اور انہیں زندگی میں صحیح کیرئر کا انتخاب کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کرنا ہو۔خطہ پیر پنجال بلکہ پوری ریاست کے نوجوانوں سے اپیل ہوگی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اپنی اولین ترجیحی بنائیں جہاں وہ نہ صرف علم حاصل کریں گے بلکہ آپ کی مجموعی طور کردارسازی، شخصیت سازی ہوگی جس سے آپ اپنے علاقہ، گاوں اور والدین کے لئے باعثِ رحمت بن سکیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ صحیح معنوں میں سرسید احمد خان کو خراج عقیدت ہوگا اور ساتھ ہی ان کے آخری پیغام کی آبیاری بھی ہوگی جس میں انہوں نے کہاتھا”میرے عزیز بچو، آپ ایک خاص سٹیج تک پہنچ چکے ہو اور ایک چیز یاد رکھو کہ جب میں نے یہ کام شروع کیاتھا، تب مجھے چوطرفہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ہر طرف سے مجھے گالیاں دی گئی تھیں، میرے لئے زندگی اتنی کٹھن بن گئی تھی کہ میں بہت پہلے بوڈھا ہوگیا، میرے بال جھڑ گئے۔ میری بینائی بھی کمزور ہوگئی لیکن میں اپنے مشن کو نہیں بھولا۔ میرا ارداہ عزم کبھی کمزور نہیں پڑھا۔ میں نے یہ ادارہ آپ کے لئے بنایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس ادارہ کی روشنی کو دو ر دور تک پہنچائیں گے تب تک جب تلک کہ ہرسوں اندھیرا ختم نہیں ہوجاتا“َ

    مضمون نگار: الطاف حسین جنجوعہ پیشہ سے ایڈووکیٹ اور جرنلسٹ ہیں

    1 comment:

    1. الطاف صاحب آپکا مضمون کافی متاثر کن اور معلوماتی ہےـ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

      ReplyDelete

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad