• Trending

    سراغِ زندگی | آمینہ فردوس

    زندگی مختلف چہروں سے بھری دنیا کی طرح ہے جس میں ایک چہرہ رشک نہیں کرتا بلکہ خوشی، غم, پریشانی سب اپنے اپنے وقت پر اپنا حق جماتے ہیں. زندگی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی جب یہاں حالات بدلتے ہیں تو زندگی ہمارا  شمار بھی بدلے ہوے لوگوں میں کروا دیتی ہے
    زندگی کے سفر پر جب روشنی ڈالی جاے تو انسان کے زہن میں صرف خوشی کے وہ پل نہیں بلکہ ہماری اذیت ، پریشانی وہ مشکل وقت سب اپنا اپنا قصہ لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ 


    ہر انسان کی زندگی میں اسکے اندر  شوق اور خوابوں کا ایک دریا بہتا ہے ، اور کچھ اسی دریا کے بہاو کے ساتھ بہہتے  ہیں اور آخر میں اپنی منزل پا لیتے ہیں، مگر کچھ لوگ اس دریا کو سوکھا دیتے ہیں اور سوکھ جانے پر آنکھوں سے برسات بھی کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ اگر ہم کوششوں کو برقرار رکھیں تو ہمارے  شوق بھی پورے ہو سکتے ہیں اور ہمارے خواب بھی حقیقت میں بدل سکتے ہیں

    کیا اپ جانتے ہیں کہ کبھی کبھی ہم ہار کیوں جاتے ہیں؟ کیونکہ ہمارے خواہشوں کو ہم سے زیادہ امید ہوتی ہے اور ہماری کوششیں اور محنتیں کم رہ جاتی ہیں۔ ہماری منزل ایک بند دروازے کے پیچھے ہوتی ہے جو آپکی دستک کی منتظر ہوتی ہے، جب اس پر بار بار محنت کی دستک دی جاے تو آپ کی منزل آپکے قدموں تلے ہوتی ہے۔ 

    شوق اور خواب پال رکھنا  اور انکے پورے ہونے کی امید بھی رکھنا مگر محنتوں اور کوششوں کا دامن نہ پکڑنا  نہایت بیوقوفی ہے ۔ ہماری پہلی ہار ہماری کوشش اور محنت نہ کرنا ہے اور ایک بات کو زہن نشین کرلیں کہ ہمارے شوق بھی  ہماری کوششوں اور محنتوں کے غلام ہوتے ہیں

    زندگی آپ کو کب کہاں کھڑا کر دے اس کا علم تو ہمیں نہیں ہے،اس لیے ہمیں ہمیشہ ہر مشکل کا سامنا کرنا آنا چاہیے، ہمیں اپنے اندر بہت دلیری اور ہمت پیدا کرنی چاہیے اور یاد رکھیں کہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا بس اس چیز کو کرنے کا جنون ہماری  رگوں میں شامل ہونا چاہیے اور لفظ ناممکن کو اپنی کتاب زندگی سے نکال دیجئے اور سچ کا سامنا کیجیے کیوں کہ لفظ ناممکن خود میں ہی ممکن ہے۔ جب ہم رات کے اندھیرے میں مہنتوں کے چراغ جلایں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ دن کے اجالے کی طرح آپ کی کامیابی آپ کا ہاتھ تھامے گی۔



    مصنف : آمینہ فردوس علم نباتیات کی طلبہ ہیں- وہ سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھتی ہیں

    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad