• Trending

    دورِ حاضر اور بنیادی تعلیمی نظام

    Pir Panjal Post, poonch
    کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے تعلیمی نظام خصوصا ً بنیادی تعلیمی نظام پر ہوتا ہے۔ کیونکہ کم سن بچے کے ذہن پر ہر چیز جلدی اثر انداز ہوتی ہے ۔ اگر ایک پودے کو کم عمری میں کسی خاص سمت موڑ دیا جائے تو آئندہ بھی اُس کا رخ ویسا ہی رہے گا۔ چنانچہ بچے (بچوں) کی اچھی تعلیمی و تر بیتی نشو و نما بنیادی تعلیم ہی کے ذریعے یا بنیادی تعلیم ہی کے دور میں کی جا سکتی ہے۔ اگر بچے (بچوں) کی بنیادی تعلیم و تربیت اچھی طرح ہو گی تو وہ بچہ (بچے) آئندہ ملک کے مختلف کام اچھی طرح سر انجام دے گا (دین گے) ۔
    ہندوستان کا بنیادی تعلیمی نظام بہت اچھا نہیں ہے۔ ہندوستان کی کم نصیبی یہ ہے کہ نہ ہی اساتذہ کو اتنی عزت و اہمیت حاصل ہے جتنی کے یہ طبقہ مستحق ہے اور نہ ہی یہ طبقہ اپنی ذمہ داریوں کو ذمہ داری یا فرض سمجھتا ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے خصوصا ًیورپ میں دیکھا جائے تو وہاں سبھی  پیشوںمیں تعلیمی پیشے کو عزت و اہمیت دونوں حاصل ہیں۔ وہاں جو انسان زیادہ لائق اور قابل ہوگا وہ خود بھی ایک اچھا استاد بننا چاہے گا اور وہاں کا معاشرہ بھی اسے ایک اچھا استاد ہی بنانا چاہے گا۔ جبکہ ہندوستان میں جو شخص قابل ہوگا وہ Civil Services اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی طرف رجوع کرگے گا۔ اور ہمارا معاشرہ بھی ایسے انسان کو ایک استاد بنانا ناگوار سمجھے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو اس پیشے کو اتنی عزت و وقار حاصل نہیں اور دوسری طرف اساتذہ کی تنخواہیں بھی کم ہیں۔
    ہندوستان میں بنیادی تعلیمی نظام کا فقدان ہے حکومت اس پر اتنی توجہ نہیں کرتی جتنی بنیادی تعلیم پر کرنی چاہیے۔ یوں تو گورنمنٹ مختلف پالیسیوں کے تحت بنیادی تعلیم کے لیے بڑی رقم وا گذار کرتی ہے لیکن اس رقم کا استعمال عملی طور پر نہیں ہو پاتا۔ حکومت کی سبھی پالیسیوں (چاہے وہ مفت کتابیں ہوں یا مفت وردی ہو، یا Mid day Meal راشن ہو) کا میدان میں صرف 25 سے 30 فی صد تک ہی اطلاق ہوتا ہے ۔ باقی ماندہ رقم یا سامان رشوت خوری اور گوٹالوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ راشن اور رسوئی گیس و چولہا بڑے افسروں اور اساتذہ وغیرہ کے باورچی خانوں کی زینت بن جاتے ہیں ۔ اس طرح بنیادی تعلیم کو فروغ دینے میں کوئی بھی قدم کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔
    آج کے کچھ اساتذہ کی حالت اور ان کے کارنامے بھی صرف ناپسندیدہ ہی نہیں بلکہ قابلِ نفرت ہیںلیکن یہ اساتذہ اپنے کارناموں سے واقف تک نہیں۔ آج کے اساتذہ ایک طرف تو بچوں کو ان کے حق کے مطابق تعلیم نہیں پہونچا سکتے دوسری طرف ان ہی طلباءسے غلاموں کی طرح اپنے ذاتی کام بھی کر واتے ہیں جو ایک بڑی لعنت سے کم نہیں۔ ملک کے مختلف اساتذہ کے تربیتی ادارے چاہے وہ سرکاری ہوں ےانجی ، چاہے وہ B.Ed., M.Ed. کالج ہوں یا دوسرے تربیتی ادارے یا پروگرام سبھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کلاس میں طلباءکو جدید طریقہ کار سے تعلیم دی جائے اور دورانِ تدریس مختلف ہنروں کا استعمال کیا جائے ۔ ایک استاد کا فرض ہے کہ وہ اپنے تدریسی امدادی سامان (TLM)کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بنیادوں پر طلباءکو جانچ کر ان کی ضروریات کے مطابق درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھے لیکن اس کے بر عکس اساتذہ کا حال یہ ہے کہ نہ ہی کلاس روم میں کسی ہنر کا استعمال ہوتا ہے اور نہ ہی تدریسی امدادی سامان(TLM) کا استعمال حسب حال ہوتا ہے اور نہ ہی اسے اپنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ طلباءکی نفسیاتی بنیادوں پر جانچ کی جگہ ڈانٹ ڈپٹ یا پٹائی سے کام لیا جاتا ہے۔ آج کے اساتذہ روایتی طور چند لمحے کلاس روم میں گذار کر واپس آجاتے ہیں۔ہماری اس سے بڑی بدنصیبی کےا ہوگی کہ اساتذہ کلاس روم میں جا کر کتاب تک بچوں سے مانگنے پر مجبور ہیں پھر بھی انہیں اپنے اندر کوئی خامی محسوس نہیں ہوتی۔
    مذکورہ تعلیمی نظام کا جو نقشہ پیش کیا گیا ہے یہ ہمیں اکثر سرکاری اسکولوں میں اور خصوصاً ان علاقوں میں نظر آتا ہے جہاں سڑک وغیرہ کی اچھی سہولیات دستیاب نہیں جس کی وجہ سے وہاں سرکار کی طرف سے کوئی جانچ یا معائنہ کرنے والا بھی نہیں ہے۔ جو سماج ، معاشرہ یا ملک ان مسائل کا شکار ہو وہ کیا ترقی کر سکتا ہے ۔ ملک میں عوام ایک طرف بے روزگاری، بھوک اور بچہ مزدوری پر مجبور ہے تو دوسری طرف ملک اپنے چندجنگی ہتھیاروں کو سامنے رکھ کر ترقی کے خواب دیکھتا رہے حقیقی معنوں میں یہ ترقی نہیں ہے۔
    لہٰذا حکومت سے لیکر اساتذہ اور طلباءکے والدین تک سبھی اگر بنیادی تعلیم کو سنوارنے کی کوشش کریں تو اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بنیادی تعلیمی نظام پر کڑی نظر رکھے۔ اور اگر کوئی شخص رشوت خور ہو یا اپنے فرائض بخوبی انجام نہ دے رہا ہو تو اسے ایک طرف تو ملازمت سے برطرف کیا جائے اور دوسری طرف اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ ساتھ ساتھ ہر استاد کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے فرائض بخوبی انجام دے ۔ طلباءکے والدین کو بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ تاکہ ہم ایک اچھے شہری بننے کے ساتھ ساتھ ایک خوشگوار اور تعلیم یافتہ معاشرے کی بھی تعمیرکرسکیںتب جا کرہم ،ہمارامعاشرہ اورہماراملک اصل معنوں میں ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔
     رضا احمد
     ریسرچ اسکالر ، شعبئہ اردو

      اے۔ایم۔یو ، علی گڑھ۔ ,202002
    razaamu87@gmail.com
    Mob. No. 7217353748     
              

    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad