• Trending

    لل دید واقعہ: قبائلی طبقات سے نفرت اور تعصب کی ایک اور مثال l پیر پنجال پوسٹ

    لل دید ہسپتال سرینگر میں پچھلے دنوں پیش آئے واقعے کے متعلق مجھے کچھ زیادہ حیرت نہیں ہے کیونکہ کشمیر میں قبائلی طبقات کے خلاف نسل پرستی پر مبنی امتیاز بہت عام سی بات ہے. اور اگر معاملہ ذرا سا بھی مختلف ہوتا تو انتظامیہ و سیاستدان اس پر لب کشائی کرتے مگر نہیں، اور کسی نے کی بھی تو اتنی کہ دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات ہونی چاہیے.

    یہ اپروچ اصل مسئلہ سے فرار ہے اور کچھ نہیں کہ قبائل کو طبی سہولیات دی جائیں، جب کہ مرکزی بات نسل پرست امتیازی سلوک تھا جسے اجتماعی طور پر ہر کسی نے سرفِ نظر کیا. آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیوں شاہ فیصل اور انجینئر رشید نے اس بات کو زیرِ بحث لانا ضروری نہیں سمجھا اور ایک ہی پہلو پر بات کی؟
    کیونکہ اجتماعی طور کشمیری قوم میں نسل پرستی (racism) کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، بحث سے قبائل کی طرف سے ردعمل ہوتا جس آئندہ انتخابات میں کشمیر مرکز عظائم کو نقصان کا خدشا ہو سکتا تھا، شاہ فیصل کو سولات کا سامانا ہوتا، کشمیر کی اجتماعی فکر پر سوالیہ نشان لگتا وغیرہ وغیرہ. اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پہلو پر ڈنڈی ماری گئی اور حالات جوں کے توں رکھنے پر اکتفا کیا گیا.

    احبابِ جانتے ہیں کہ نسل پرستی مہذب قوموں میں قابلِ سزا جرم ہے اور مختلف ممالک میں اس کے خلاف شدید درجے کے قانون زیرِ عمل ہیں مگر یہاں اس پر بات کرنا بھی گوارا نہیں کیا گیا کیونکہ حدف قبائلی تھے جو نسلاً کم گورے، کم پڑھے لکھے، کم عزت، کم مالدار اور سب سے بڑھ کم بلکہ غیر کاشر دوسرے درجے کے شہری تھے اور حادف کاشر جو کہ زیادہ چٹے، زیادہ جمالی، زیادہ مالدار، زیاد باوقار اور زیادہ پڑھے لکھے بلکے ریاست کے مائی باپ تھے جن کی شان اقدس میں گستاخی کا شائبہ ہونے پر انہیں مستثنیٰ قرار دیا گیا.



    قلمکار: عبدالفیصل سرنکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور جموں یونیورسٹی سے ایل ایل بی کر رہے ہین

    Disclaimer: The views expressed by the author are strictly personal and do not represent the views of Pir Panjal Post.

    No comments

    Post Top Ad

    Post Bottom Ad